انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا

دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا دل بجھنے لگا تھا سو نظارے سے اٹھایا بے جان پڑا دیکھتا رہتا تھا میں اس کو اک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا اک لہر مجھے کھینچ کے لے آئی بھنور میں وہ لہر جسے میں نے کنارے سے اٹھایا گھر میں کہیں گنجائش در ہی نہیں رکھی بنیاد کو کس شک کے سہارے سے اٹھایا اک میں ہی تھا اے جنس محبت تجھے ارزاں اور میں نے بھی اب ہاتھ خسارے سے اٹھایا

— انجم سلیمی

وصال کی تیسری سمت

وصال کی تیسری سمت معذرت چاہتا ہوں دوست میں اب انتظار نہیں کرتا بلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرف ایک پوشیدہ چاپ کے تعاقب میں خود سے باہر نکلتا ہوں اور اپنے ہی جیسے کسی ہجوم کا حصہ بن کر اپنے وجود پر اکتفا کرتا ہوں اپنی عمیق روشنی سے نیا جنم لیتے ہوئے خود کی بنت میں بے جوڑ ہونے کی کاوش رائیگاں نہیں جاتی سنو! سمے کے بھید بھاؤ میں اپنا تخمینہ لگاتے ہوئے ذات کی جمع پونجی میں سے میں تمہیں اپنی حسیات سے مسترد نہیں کرتا بساط بھر صبر اور ایک مٹھی وصال کے عوض میں تمہیں کشید کرتا ہوں اپنے اطراف سے اور گنجائش پیدا کرتا ہوں تمہاری میزبانی کے لیے کسی اور جہت سے اپنے آپ میں لیکن معذرت میں انتظار نہیں کر سکتا اپنی رگوں میں بہتے ہوئے اس دکھ کے پگھلنے کا جو اپنے بہاؤ میں میری توجہ بہا لے جا سکتا ہے اپنے ساتھ میں طے شدہ گزر گاہوں کا مسافر نہیں مجھے تو ہر امکان سے گزر کر آنا ہے تمہاری سمت اور ہاں۔۔۔ میں تو اپنا بھی انتظار نہیں کرتا ہوں اب!!!

— انجم سلیمی