سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا دل بجھنے لگا تھا سو نظارے سے اٹھایا بے جان پڑا دیکھتا رہتا تھا میں اس کو اک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا اک لہر مجھے کھینچ کے لے آئی بھنور میں وہ لہر جسے میں نے کنارے سے اٹھایا گھر میں کہیں گنجائش در ہی نہیں رکھی بنیاد کو کس شک کے سہارے سے اٹھایا اک میں ہی تھا اے جنس محبت تجھے ارزاں اور میں نے بھی اب ہاتھ خسارے سے اٹھایا
وصال کی تیسری سمت
وصال کی تیسری سمت معذرت چاہتا ہوں دوست میں اب انتظار نہیں کرتا بلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرف ایک پوشیدہ چاپ کے تعاقب میں خود سے باہر نکلتا ہوں اور اپنے ہی جیسے کسی ہجوم کا حصہ بن کر اپنے وجود پر اکتفا کرتا ہوں اپنی عمیق روشنی سے نیا جنم لیتے ہوئے خود کی بنت میں بے جوڑ ہونے کی کاوش رائیگاں نہیں جاتی سنو! سمے کے بھید بھاؤ میں اپنا تخمینہ لگاتے ہوئے ذات کی جمع پونجی میں سے میں تمہیں اپنی حسیات سے مسترد نہیں کرتا بساط بھر صبر اور ایک مٹھی وصال کے عوض میں تمہیں کشید کرتا ہوں اپنے اطراف سے اور گنجائش پیدا کرتا ہوں تمہاری میزبانی کے لیے کسی اور جہت سے اپنے آپ میں لیکن معذرت میں انتظار نہیں کر سکتا اپنی رگوں میں بہتے ہوئے اس دکھ کے پگھلنے کا جو اپنے بہاؤ میں میری توجہ بہا لے جا سکتا ہے اپنے ساتھ میں طے شدہ گزر گاہوں کا مسافر نہیں مجھے تو ہر امکان سے گزر کر آنا ہے تمہاری سمت اور ہاں۔۔۔ میں تو اپنا بھی انتظار نہیں کرتا ہوں اب!!!