سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں رات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میں اس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میرا خال و خد لے کے میں ہم راہ کدھر جاتا ہوں دل ٹھہر جاتا ہے بھولی ہوئی منزل میں کہیں میں کسی دوسرے رستے سے گزر جاتا ہوں سہما رہتا ہوں بہت حلقۂ احباب میں میں چار دیوار میں آتے ہی بکھر جاتا ہوں میرے آنے کی خبر صرف دیا رکھتا ہے میں ہواؤں کی طرح ہو کے گزر جاتا ہوں میں نے جو اپنے خلاف آپ گواہی دی ہے وہ ترے حق میں نہیں ہے تو مکر جاتا ہوں
اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی
اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی ہم دونوں نے ایک محبت باری باری کی خود پر ہنسنے والوں میں ہم خود بھی شامل تھے ہم نے بھی جی بھر کر اپنی دل آزاری کی اک آنسو نے دھو ڈالی ہے دل کی ساری میل ایک دیے نے کاٹ کے رکھ دی گہری تاریکی دل نے خود اصرار کیا اک ممکنہ ہجرت پر ہم نے اس مجبوری میں بھی خود مختاری کی چودہ برس کے ہجر کو امشب رخصت کرنا ہے سارا دن سو سو کر جاگنے کی تیاری کی ہم بھی اسی دنیا کے باسی تھے سو ہم نے بھی دنیا والوں سے تھوڑی سی دنیا داری کی انجمؔ ہم عشاق میں اونچا درجہ رکھتے ہیں بے شک عشق نے ایسی کوئی سند نہ جاری کی
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر ہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر یقین کر او محبت یہی مناسب ہے زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط ندامت ہے تو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ کر ہے کون کون مرے ساتھ اس مصیبت میں میں اپنے ساتھ نہیں ہوں مجھے شمار نہ کر میں خاک خود تجھے لبیک کہنے والوں میں مجھے بلاوا نہ دے میرا انتظار نہ کر
مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی
مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی جو کھل گئی کبھی مجھ پر منافقت اپنی میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گا مجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی میں شرمسار ہوا اپنے آپ سے پھر بھی قبول کی ہی نہیں میں نے معذرت اپنی زمانے سے تو مرا کچھ گلہ نہیں بنتا کہ مجھ سے میرا تعلق تھا معرفت اپنی خبر نہیں ابھی دنیا کو میرے سانحے کی سو اپنے آپ سے کرتا ہوں تعزیت اپنی