انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

مہاجر پرندوں کا سواگت

دنیا میں اپنا سارا حسن تیری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہوں اور تو اپنا سارا زہر میرے اندر انڈیل دیتی ہے جانتی ہے ناں میں زیادہ دیر خالی نہیں رہ سکتا میری گونج مجھے اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے سہما پڑا رہتا ہوں دیر دیر تک اپنے ہی اندر اپنے خالی پن کے سناٹے میں یا پھر دھما چوکڑی کرتی ان کہی نظموں کے شور میں چپ چاپ بیٹھ رہتا ہوں اپنے ساتھ کیا اذیت ہے؟ اپنے آپ سے ملتے ہوئے خود کلامی بھی نہیں ہو پاتی مجھ سے! ''بولتا ہوں تو لفظ زمیں پر گرتے ہیں'' ریزہ ریزہ حرف چن کر آنکھوں سے چومتا ہوں کہ اپنی سمت لوٹتے سمے میں انہیں روند کر نہیں گزر سکتا سو، کہر کی دھند میں گھرے ہوئے مہاجر پرندوں کے پر اٹھا لاتا ہوں اپنی کتاب میں رکھنے کے لیے تب اپنا سونا پن اچھا لگنے لگتا ہے جب لفظ پرندوں کی طرح میرے آس پاس اڑتے پھرتے ہیں ان کے رزق سے بھرا رہتا ہے میرا باطن وہ اپنی ننھی ننھی چونچیں کھول کر میرے وجود سے اپنے معنی چگتے ہیں انہی کی چہکار لے کے آتا ہوں میں تیرے لیے میری پیاری دنیا!!

— انجم سلیمی