انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے

بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سے جا غم کے ساتھیے مجھے تنہائی چاہیئے اکتا گیا ہوں خود سے اگر میں تو کیا ہوا یہ بھی تو دیکھیے مجھے تنہائی چاہیئے اک روز خود سے ملنا ہے اپنے خمار میں اک شام بن پئے مجھے تنہائی چاہیئے تکرار اس میں کیا ہے اگر کہہ رہا ہوں میں تنہائی چاہیئے مجھے تنہائی چاہیئے دنیا سے کچھ نہیں ہے سروکار اب مجھے بے شک مرے لیے مجھے تنہائی چاہیئے

— انجم سلیمی

خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ

خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ میں کیا کہوں مرا کچھ بھی گلہ نہیں مرے ساتھ میں اس کے ساتھ ہوں بے شک میں اس کے پاس نہیں وہ میرے پاس تھا لیکن وہ تھا نہیں مرے ساتھ نکل پڑا ہوں کسی کو ملے بتائے بغیر سفر بخیر کوئی بھی دعا نہیں مرے ساتھ وہ میرے دکھ میں مرا جا رہا ہے حیرت ہے جو ایک دن بھی خوشی سے جیا نہیں مرے ساتھ خدا کی راہ میں نکلا ہوں میں تن تنہا یہ پہلی بار ہوا ہے خدا نہیں مرے ساتھ

— انجم سلیمی

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں زمیں کو اپنے تئیں آسماں بناتا ہوں فقط دعا سے کہاں بال و پر نکلتے ہیں میں چھت پہ بیٹھا ہوا سیڑھیاں بناتا ہوں بندھے بندھائے یقیں پر خدا نہیں کھلتا میں شک کے بیج سے کیا کیا گماں بناتا ہوں میں دائرے کی طرح بیٹھتا ہوں چاروں طرف جو منتشر ہیں انہیں درمیاں بناتا ہوں مرے وجود سے ہوتی نہیں گھٹن پیدا میں گفتگو میں نئی کھڑکیاں بناتا ہوں میں صرف لفظوں میں بینائی ہی نہیں بھرتا سماعتوں کے لیے بھی زباں بناتا ہوں

— انجم سلیمی