سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سے جا غم کے ساتھیے مجھے تنہائی چاہیئے اکتا گیا ہوں خود سے اگر میں تو کیا ہوا یہ بھی تو دیکھیے مجھے تنہائی چاہیئے اک روز خود سے ملنا ہے اپنے خمار میں اک شام بن پئے مجھے تنہائی چاہیئے تکرار اس میں کیا ہے اگر کہہ رہا ہوں میں تنہائی چاہیئے مجھے تنہائی چاہیئے دنیا سے کچھ نہیں ہے سروکار اب مجھے بے شک مرے لیے مجھے تنہائی چاہیئے
خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ
خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ میں کیا کہوں مرا کچھ بھی گلہ نہیں مرے ساتھ میں اس کے ساتھ ہوں بے شک میں اس کے پاس نہیں وہ میرے پاس تھا لیکن وہ تھا نہیں مرے ساتھ نکل پڑا ہوں کسی کو ملے بتائے بغیر سفر بخیر کوئی بھی دعا نہیں مرے ساتھ وہ میرے دکھ میں مرا جا رہا ہے حیرت ہے جو ایک دن بھی خوشی سے جیا نہیں مرے ساتھ خدا کی راہ میں نکلا ہوں میں تن تنہا یہ پہلی بار ہوا ہے خدا نہیں مرے ساتھ
سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں
سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں زمیں کو اپنے تئیں آسماں بناتا ہوں فقط دعا سے کہاں بال و پر نکلتے ہیں میں چھت پہ بیٹھا ہوا سیڑھیاں بناتا ہوں بندھے بندھائے یقیں پر خدا نہیں کھلتا میں شک کے بیج سے کیا کیا گماں بناتا ہوں میں دائرے کی طرح بیٹھتا ہوں چاروں طرف جو منتشر ہیں انہیں درمیاں بناتا ہوں مرے وجود سے ہوتی نہیں گھٹن پیدا میں گفتگو میں نئی کھڑکیاں بناتا ہوں میں صرف لفظوں میں بینائی ہی نہیں بھرتا سماعتوں کے لیے بھی زباں بناتا ہوں