انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا عشق میں بابا ایک جنم سے کام نہیں چل سکتا بہت دنوں سے مجھ میں ہے کیفیت رونے والی درد فراواں سینے میں کہرام نہیں چل سکتا تہمت عشق مناسب ہے اور ہم پر جچتی ہے ہم ایسوں پر اور کوئی الزام نہیں چل سکتا چم چم کرتے حسن کی تم جو اشرفیاں لائے ہو اس میزان میں یہ دنیاوی دام نہیں چل سکتا آنکھ جھپکنے کی مہلت بھی کم ملتی ہے انجمؔ فقر میں کوئی تن آساں دو گام نہیں چل سکتا

— انجم سلیمی