انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلا ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں صبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں میرا دامن بھی کوئی دست ہوس کھینچتا ہے ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا میں نہیں میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں اے برابر سے گزرتے ہوئے دکھ تھم تو سہی تجھ پہ رونے کو عزا دار پڑا ہے مجھ میں میرا ہونا مرے ہونے کی گواہی تو نہیں میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں

— انجم سلیمی

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے دوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے اجنبی شہر میں اک لقمے کو ترسا ہوا میں میزباں جسموں نے سمجھا نہیں مہمان مجھے ایک ہی شکل کے سب چہرے تھے لیکن پھر بھی ایک چہرے نے تو بے حد کیا حیران مجھے میں محبت بھی محبت کے عوض دیتا ہوں پھر بھی ہو جاتا ہے اس کام میں نقصان مجھے بھولے بسرے کسی نغمے کی سی شاداب آواز رات کانوں میں پڑی کر گئی سنسان مجھے جانے کب سونپ دوں مٹی کو یہ مٹی کا قفس جانے کب دینا پڑے روح کا تاوان مجھے

— انجم سلیمی

کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر

کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر یہ راہ عشق ہے ، دیوار سے بھی مشورہ کر اسے گلی سے تہی دست مت گزرنے دے شبِ سیاہ کو میرا چراغ ہدیہ کر دعا کے ساتھ مناسب ہے حیلہ جوئی بھی تو صرف تکیہء درویش پر نہ تکیہ کر میں آسمان سے سورج اتار لاؤں گا یہ خواب ہے تو مرے خواب پر بھروسہ کر کبھی کلام تو کر اپنے اس فقیر کے ساتھ مُجھے بھی رس بھرے دوچار لفظ صدقہ کر

— انجم سلیمی