وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

فخر کا پیش کردہ کلام

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی ہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاش سینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلا سارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیا آکاش بے چراغ زمیں بے لباس تھی اب دھول میں اٹی ہوئی راہوں پہ ہے سفر وہ دن گئے کہ پاؤں تلے نرم گھاس تھی

— وزیر آغا