وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں جو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہے مناظر الٹی جانب کو رواں ہیں زمیں کے تال سب سوکھے پڑے ہیں پرندے آسماں در آسماں ہیں سنا ہے تشنگی بھی اک دعا ہے لبوں پر شبد جس کے پر فشاں ہیں کھلے صحرا میں مت ڈھونڈو ہمیں تم سدا سے ہم تمہارے درمیاں ہیں

— وزیر آغا

ساری عمر گنوا دی ہم نے

ساری عمر گنوا دی ہم نے پر اتنی سی بات بھی ہم نہ جان سکے کھڑکی کا پٹ کھلتے ہی جو لش لش کرتا ایک چمکتا منظر ہم کو دکھتا ہے کیا وہ منظر کھڑکی کی چوکھٹ سے باہر سبز پہاڑی کے قدموں میں اک شفاف ندی سے چمٹے پتھر پر چپ چاپ کھڑے اک پیکر کا گم صم منظر ہے جس کو کھڑکی کے کھلنے نہ کھلنے سے کچھ غرض نہیں ہے یا ہم کھڑکی کے اندر کا منظر دیکھ رہے ہیں ساری عمر گنوا دی ہم نے

— وزیر آغا