سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
نگاہ بسمل
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
خواجہ اشرف
راجا اکرام قمر
زاہد
سجاد رضا
سید جینٹلمین
فخر
مرزا جواد
ملک
واجد علی
وقاراحسن
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں جو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہے مناظر الٹی جانب کو رواں ہیں زمیں کے تال سب سوکھے پڑے ہیں پرندے آسماں در آسماں ہیں سنا ہے تشنگی بھی اک دعا ہے لبوں پر شبد جس کے پر فشاں ہیں کھلے صحرا میں مت ڈھونڈو ہمیں تم سدا سے ہم تمہارے درمیاں ہیں
ساری عمر گنوا دی ہم نے
ساری عمر گنوا دی ہم نے پر اتنی سی بات بھی ہم نہ جان سکے کھڑکی کا پٹ کھلتے ہی جو لش لش کرتا ایک چمکتا منظر ہم کو دکھتا ہے کیا وہ منظر کھڑکی کی چوکھٹ سے باہر سبز پہاڑی کے قدموں میں اک شفاف ندی سے چمٹے پتھر پر چپ چاپ کھڑے اک پیکر کا گم صم منظر ہے جس کو کھڑکی کے کھلنے نہ کھلنے سے کچھ غرض نہیں ہے یا ہم کھڑکی کے اندر کا منظر دیکھ رہے ہیں ساری عمر گنوا دی ہم نے