وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے خاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہو وجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے دور تک اڑتے ہوئے جگنو تری آواز کے دور تک ریگ رواں پر اک نگر میرے لیے آشنا نظروں سے دیکھیں رات بھر تارے تجھے گھورتی آنکھوں کی یہ بستی مگر میرے لیے لے گئی ہے ساری خوشبو چھین کر ٹھنڈی ہوا پتیاں بکھری پڑی ہیں خاک پر میرے لیے بند اس نے کر لیے تھے گھر کے دروازے اگر پھر کھلا کیوں رہ گیا تھا ایک در میرے لیے خاک پر بکھرے ہوئے قدموں تلے روندے ہوئے تحفۃً لائی ہوا میرے ہی پر میرے لیے

— وزیر آغا

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال تمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگر ہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفر وہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کے دمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے گال ترے کرم کی تو ہر سو مہکتی برکھا تھی ہمیں تھے جن کو ہوا بھیگا پیرہن بھی وبال

— وزیر آغا