وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

اس کے دشمن

سحر ہوئی تو کسی نے اٹھ کر لہو میں تر ایک سرخ بوٹی بڑی کراہت سے آسماں کے فراخ آنگن میں پھینک دی اور طویل متلی کی جان لیوا سی کیفیت سے نجات پائی مگر فلک کے فراخ آنگن میں بادلوں کے سفید سگ اس کے منتظر تھے جھپٹ پڑے اس لہو میں تر دل کے لوتھڑے پر جھپٹ پڑے ایک دوسرے پر زمین کے لوگوں نے دیر تک یہ لڑائی دیکھی سفید کتوں کے سرخ جبڑے لہو میں تر ایک لال ٹکڑا دریدہ سورج حریص گراتے بادلوں کا طویل گہرا مہیب دکھڑا مری زمیں بھی تو گوشت کا لوتھڑا تھی جس کو کسی نے اندھے خلا میں پھینکا مگر نہ کوئی بھی اس پہ جھپٹا تب اس کے اندر سے آئے باہر اسی کے دشمن اسی کی بو پر ہزاروں خونخوار تند کتے حریص جبڑے اور اب دریدہ زمین ساری ٹپکتے گرتے لہو کے قطروں میں رس رہی ہے خود اپنے خونخوار تند بچوں کے تیز جبڑوں میں پس رہی ہے

— وزیر آغا