سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شام لال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے کہکشاؤں میں تڑپتے تھے ستاروں کے پرند سبز آکاش پہ ہر سو تھے بچھے جال اس کے کاٹ ہی لیں گے جدائی کا زمانہ ہم تو دیکھیے کیسے گزرتے ہیں مہ و سال اس کے ایک دن ہم بھی کھلے اس کی حسیں راہوں میں ایک دن پاؤں میں ہم بھی ہوئے پامال اس کے چاندنی اس کا بدن چاند ہے اس کا چہرہ کھیتیاں دھان کی آنکھوں کے حسیں تال اس کے رت جگا ہم بھی منائیں کہ سنا ہے ہم نے روز لکھتی ہے سحر خون سے احوال اس کے
اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے
اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے آواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پر یا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے میں بھی تری خوشبو ہوں مری سمت بھی تو دیکھ مہلت تجھے گر سلسلۂ موج صبا دے سورج نے مجھے برف کیا ہے تو تجھے کیا کیا تجھ کو اگر برف مجھے آگ لگا دے ایسا بھی نہیں ہے کہ فقط خاک نشیں ہوں آ جائے ہوا آ کے مری خاک اڑا دے خوشبو کی طرح در بدری خو ہو مری گر ہے شک تو مجھے میری نگاہوں میں گرا دے کانٹے کی جراحت سے بھی مر جاتے ہیں کچھ لوگ رکھ حوصلہ اتنی بھی نہ اب خود کو سزا دے یا رب تری رحمت کا طلب گار ہے یہ بھی تھوڑی سی مرے شہر کو بھی آب و ہوا دے کیا تیرا بگڑتا ہے اگر چاندنی شب تو اک بار مجھے پھر میری آواز سنا دے
پتھروں کی قید میں اک آب جو
پتھروں کی قید میں اک آب جو بے کراں نیلا سمندر چار سو ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں میں اگر چور وہ بھی ہو چکا ہے مو بہ مو یاد کا بے نام سا اب لمس اور میرے اندر مشک بو ہی مشک بو اوڑھ لیں اب رات کی ٹھنڈک تمام ہے اسی میں تیری میری آبرو کون تھا جس نے مجھے تنہا کیا چھین کر مجھ سے تمہاری آرزو کیا نظر آیا ہے تجھ کو ابر میں کیوں ہوا ہے اس قدر بیمار تو پھول کی ریکھا میں اس نے دیکھ کر کھینچ دی تصویر میری ہو بہ ہو پھول خوشبو رنگ کاغذ اور میں ہو رہی ہے بے صدا اک گفتگو عکس اندر عکس میں آؤں نظر تو اگر آ جائے میرے روبرو