وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا پاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا میری رات گزر رہی تھی ایسے میں جیسے ورق الٹ رہا تھا ساگر میں نہیں تھی موج اک بھی ساحل تھا کہ پھر بھی کٹ رہا تھا میں بھی تو جھپٹ رہا تھا خود پر جب میرا اثاثہ بٹ رہا تھا دیکھا تو نظر تھی اس کی جل تھل مشکیزۂ ابر پھٹ رہا تھا قسمت ہی میں روشنی نہیں تھی بادل تو کبھی کا چھٹ رہا تھا نشہ تھا چڑھاؤ پر سحر دم پیمانۂ عمر گھٹ رہا تھا

— وزیر آغا