وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے آنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھی کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئے اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھول سب میرے غم گسار سر شام آئیں گے رکھ تو انہیں بچا کے کسی اور کے لیے یہ قول یہ قرار ترے کام آئیں گے لوٹے اگر سفر سے کبھی ہم تو ڈر نہیں صورت بدل کے آئیں گے بے نام آئیں گے

— وزیر آغا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا کرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھنا آبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعد زخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی آگ اب ترا اس آگ سے ڈرنا بھی کیا لڑنا بھی کیا در دریچے وا مگر بازار گلیاں مہر بند ایسے ظالم شہر میں جینا بھی کیا مرنا بھی کیا تجھ سے اے سنگ صدا اس ریزہ ریزہ دور میں اک ذرا سے دل کی خاطر دوستی کرنا بھی کیا

— وزیر آغا