سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے آنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھی کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئے اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھول سب میرے غم گسار سر شام آئیں گے رکھ تو انہیں بچا کے کسی اور کے لیے یہ قول یہ قرار ترے کام آئیں گے لوٹے اگر سفر سے کبھی ہم تو ڈر نہیں صورت بدل کے آئیں گے بے نام آئیں گے
عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا
عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا کرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھنا آبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعد زخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی آگ اب ترا اس آگ سے ڈرنا بھی کیا لڑنا بھی کیا در دریچے وا مگر بازار گلیاں مہر بند ایسے ظالم شہر میں جینا بھی کیا مرنا بھی کیا تجھ سے اے سنگ صدا اس ریزہ ریزہ دور میں اک ذرا سے دل کی خاطر دوستی کرنا بھی کیا