وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

زاہد کا پیش کردہ کلام

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے بس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوں زمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے وہ جب چاہے بجھا دیتا ہے شمعیں بھی ستارے بھی نگر سارا سپرد پنجۂ ظلمات کرتا ہے وہ اپنی بات سے صدچاک کرتا ہے مرا سینہ پھر اپنی بات کی تا دیر تاویلات کرتا ہے وہ اپنی عمر کو پہلے پرو لیتا ہے ڈوری میں پھر اس کے بعد گنتی عمر کی دن رات کرتا ہے

— وزیر آغا