سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
نگاہ بسمل
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
خواجہ اشرف
راجا اکرام قمر
زاہد
سجاد رضا
سید جینٹلمین
فخر
مرزا جواد
ملک
واجد علی
وقاراحسن
زاہد کا پیش کردہ کلام
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے بس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوں زمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے وہ جب چاہے بجھا دیتا ہے شمعیں بھی ستارے بھی نگر سارا سپرد پنجۂ ظلمات کرتا ہے وہ اپنی بات سے صدچاک کرتا ہے مرا سینہ پھر اپنی بات کی تا دیر تاویلات کرتا ہے وہ اپنی عمر کو پہلے پرو لیتا ہے ڈوری میں پھر اس کے بعد گنتی عمر کی دن رات کرتا ہے