وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

بانجھ

چھتوں منڈیروں اور پیڑوں پر ڈھلتی دھوپ کے اجلے کپڑے سوکھ رہے تھے بادل سرخ سی جھالر والے بانکے بادل ہنستے چہکتے پھولوں کا اک گلدستہ تھے ہر شے کندن روپ میں ڈھل کر دمک رہی تھی گالوں پر سونے کی ڈلگ اور آنکھوں میں اک تیز چمک تھی سارا منظر کیف کے اک لمحے میں بے بس لذت کی بانہوں میں جکڑا ہمک رہا تھا اور پھر دو آنکھوں کو ملتی کالے الجھے بالوں کو مکھ پر بکھرائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بڑھتی آئی پہلی کھڑکی میں جب اس نے جھانکا کھڑکی کی دہلیز پہ رکھا اک نازک گلدان چٹخ کر ٹوٹ گیا الجھے بالوں پاگل آنکھوں والی نے تب آگے بڑھ کر دوسری تیسری اور پھر گلی کی ہر کھڑکی میں جھانک کے دیکھا گل دانوں کو ٹھوکر ماری اک اک پھول کو روند دیا تب وہ مجھ کو دیکھ کے لپکی میری جانب غیظ بھری نظروں کا ریلا آیا پھر جیسے کچھ شوخ کے ٹھٹھکی سرخ گلاب کا پھول مرے ہاتھوں میں تھمایا اور خود چکنے فرش پہ گر کر ٹوٹ گئی

— وزیر آغا

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا موجود تم چلے جاتے ہو اور بولنے لگتے ہیں تمام ادھ کھلے پھول سماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکان گفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجسام مردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑ ابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندام برف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسو اور سلے کانوں میں آواز کی سوئیاں بے جان یک بیک بولنے لگتے ہیں تمام زندگی بننے میں ہو جاتی ہے پھر سے مصروف وقت ہو جاتا ہے پھر خاک بہ سر بے آرام ایک پنچھی جسے اڑتے چلے جانا ہے خدا جانے کہاں اور میں تنکوں کے بکھرے ہوئے بستر کی طرح منتظر لوٹ کے تم آؤ کسی روز یہاں پھر ہوں اک بار معطل یہ زمیں اور زماں

— وزیر آغا