وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا اے ہوائے صبح تو نے کیا کیا کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا بوئے گل کو شہر میں رسوا کیا کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے روشنی سے تو نے جب پردہ کیا بے خیالی میں ستارے چن لیے جگمگاتی رات کو اندھا کیا جاتے جاتے شام یک دم ہنس پڑی اک ستارہ دیر تک رویا کیا روٹھ کر گھر سے گیا تو کتنی بار کیا در و دیوار نے پیچھا کیا اپنی عریانی چھپانے کے لیے تو نے سارے شہر کو ننگا کیا

— وزیر آغا

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا سارا لہو بدن کا رواں مشت پر میں تھا جاتے کہاں کہ رات کی بانہیں تھیں مشتعل چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیا کل تک جو ایک کوہ گراں رہ گزر میں تھا اترا تھا وحشی چڑیوں کا لشکر زمین پر پھر اک بھی سبز پات نہ سارے نگر میں تھا پاگل سی اک صدا کسی اجڑے مکاں میں تھی کھڑکی میں اک چراغ بھری‌ دوپہر میں تھا اس کا بدن تھا خوف کی حدت سے شعلہ وش سورج کا اک گلاب سا طشت سحر میں تھا

— وزیر آغا