وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

نگاہ بسمل کا پیش کردہ کلام

عجیب ہے یہ سلسلہ

عجیب ہے یہ سلسلہ یہ سلسلہ عجیب ہے ہوا چلے تو کھیتیوں میں دھوم چہچہوں کی ہے ہوا رکے تو مردنی ہے مردنی کی راکھ کا نزول ہے کہاں ہے تو کہاں ہے تو کہاں نہیں ہے تو بتا ابھی تھا تیرے گرتے اڑتے آنچلوں کا سلسلہ اور اب افق پر دور تک گئے دنوں کی دھول ہے گئے دنوں کی دھول کا یہ سلسلہ فضول ہے میں رو سکوں تو کیا یہ گدلی کائنات دھل سکے گی میرے آنسوؤں کے جھاگ سے میں مسکرا سکوں تو کیا سفر کی خستگی کو بھول کر یہ کارواں نجوم کے برس پڑیں گے موتیے کے پھول بن کے اس مہیب کاسۂ حیات میں نہ تو سنے نہ میں کہوں نہ میرے انگ انگ سے صدا اٹھے یوں ہی میں آنسوؤں کو قہقہوں کو اپنے دل میں دفن کر کے گم لبوں پہ سل دھرے ترے نگر میں پا پیادہ پا برہنہ شام کے فشار تک رواں رہوں مگر کبھی تری نظر کے آستاں کو پار تک نہ کر سکوں کہ تو ازل سے تا ابد ہزار صد ہزار آنکھ والے وقت کی نقیب ہے یہ سلسلہ عجیب ہے یہ سلسلہ عجیب ہے

— وزیر آغا