وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)

20 November 2025

12سپیکرز
153لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

کٹھور راہیں

کٹھور راہیں جو الجھے دھاگوں کا ایک گچھا سا بن گئی ہیں نہ ان کو رنگوں کی تیز برکھا سے کچھ غرض ہے وہ تیز برکھا جو منہ اندھیرے کسی پجارن کے کپکپاتے سفید ہونٹوں پہ ناچتی ہے نہ ان کی منزل وہ شام غم ہے جو ایک میلا سا طشت لے کر مسافروں سے لہو کے قطروں کی بھیک رو رو کے مانگتی ہے دہکتے تارے حزیں دعائیں لرزتے ہاتھوں سے بانٹتی ہے کٹھور راہیں تو آگے بڑھ کر ادا دکھا کر پلٹ گئی ہیں پلٹ کے پہلو بدل گئی ہیں گھنیری شب اپنی کالی کملی میں گم کھڑی ہے یہ سوچتی ہے بھنور کی بے نور چشم تر میں کوئی سا سیدھا سفید رستہ ابھر کے چمکے تو شب کا راہی ادھر کو لپکے یہ شب کا راہی سمے کے دھارے پہ بہتے بہتے بھنور کی صورت ابھر گیا ہے ہزار راہوں میں گھر گیا ہے

— وزیر آغا