کلامِ شاعر
- 01 میرے کمرے سے نکل کر دائرے
- 02 مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
- 03 یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے
- 04 سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
- 05 چاند
- 06 مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا
- 07 آج پھر شاخ سے گرے پتے
- 08 سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
- 09 قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
- 10 ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
- 11 اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا
- 12 روز مرغا بنا کرے کوئی
- 13 نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
- 14 جو صدا گونجتی تھی کانوں میں
- 15 دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ
- 16 دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
- 17 خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
- 18 سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
- 19 سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں
- 20 ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
- 21 جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے
- 22 سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
- 23 نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں