محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے تم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہر قاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے کیا پھر مجھے یہ اندھے کنویں میں گرائیں گے بن کر یہ لوگ میرے برادر کہاں سے آئے یہ دشت بے شجر ہی جو ٹھہرا تو پھر یہاں سایہ کسی شجر کا میسر کہاں سے آئے اسلوب میرا سیکھ لیا تم نے کس طرح لہجے میں میرا ڈھب مرے تیور کہاں سے آئے ماضی کے آئنوں پہ جلا کون کر گیا پیش نگاہ پھر وہی منظر کہاں سے آئے دور خزاں میں کیسے پلٹ کر بہار آئی پژمردہ شاخ پر یہ گل تر کہاں سے آئے محسنؔ اس اختصار پہ قربان جائیے کوزے میں بند ہو کے سمندر کہاں سے آئے

— محسن زیدی