سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں اتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخ میں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں کیا پتا خوابوں کی تعبیر ملے یا نہ ملے کسی کاغذ پہ انہیں نوٹ ہی کرتا جاؤں صحن گلشن سے وہ اک آخری رشتہ بھی گیا خشک پتوں کی طرح اب تو بکھرتا جاؤں تہ ظلمات ان آنکھوں کے دیے جلتے جائیں زینہ زینہ میں اجالوں میں اترتا جاؤں گرد دامن کی طرح مجھ کو اڑانے والے عکس بن کر تری آنکھوں میں ٹھہرتا جاؤں کتنے گھبرائے ہوئے ہیں مرے قاتل محسنؔ آستینوں پہ لہو بن کے ابھرتا جاؤں
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے یہ جذبۂ جنوں مرا زنجیر ہو نہ جائے اس کو جو اب کسی سے شکایت نہیں رہی پھر کیوں وہ سب سے مل کے بغل گیر ہو نہ جائے میں نے زبان دی ہے تو لب وا کروں گا کیا لیکن زبان خلق سے تشہیر ہو نہ جائے منظر یہ حشر خیز جو پیش نگاہ ہے ڈرتا ہوں میرے خواب کی تعبیر ہو نہ جائے آنکھوں میں بس گئی ہے وہ تصویر اس طرح میری نگاہ شوق بھی تصویر ہو نہ جائے محسنؔ نہ جانے صبح نمودار ہوگی کب یہ شام بے چراغ ہی تقدیر ہو نہ جائے
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح