محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی

چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی پھر وہی میں تھا وہی رات کی تنہائی تھی چڑھتے سورج کی توجہ رہی ساری اس پار روشنی کی تو ادھر صرف جھلک آئی تھی اپنے دل میں بھی تھی تعمیر مکاں کی حسرت اپنی قسمت میں مگر بادیہ پیمائی تھی اپنے ہی بوجھ سے ہر ڈوبنے والا ڈوبا ورنہ طوفان سے کشتی تو نکل آئی تھی چل دیے بس یوں ہی اک سائے کے پیچھے نہ تعارف ہی تھا اس سے نہ شناسائی تھی کون اس دشت میں کہتا مجھے محسنؔ لبیک اپنی ہی خاک نوا گونج کے لوٹ آئی تھی

— محسن زیدی

کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا

کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا کچھ تو اس کو برا لگا ہوگا آگے جا کر ٹھہر گیا ہوگا وہ مری راہ تک رہا ہوگا چھوڑ آئے تھے ہم جلا کے جسے وہ دیا کب کا بجھ گیا ہوگا جب وہ آواز تھم گئی ہوگی شب کا سناٹا بولتا ہوگا کیسے معلوم ہو کہ آخر وقت اس نے کیا کچھ کہا سنا ہوگا کیوں ہوا تیز ابھی سے چلنے لگی غنچہ کم کم ابھی کھلا ہوگا لہجہ اس کا بھی کچھ تھا اپنا سا وہ بھی اپنے دیار کا ہوگا پہلا سجدہ جہاں کیا تھا وہیں آخری سجدہ بھی ادا ہوگا ہو نہ ہو منزل آ گئی محسنؔ چند قوموں کا فاصلا ہوگا

— محسن زیدی