سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی پھر وہی میں تھا وہی رات کی تنہائی تھی چڑھتے سورج کی توجہ رہی ساری اس پار روشنی کی تو ادھر صرف جھلک آئی تھی اپنے دل میں بھی تھی تعمیر مکاں کی حسرت اپنی قسمت میں مگر بادیہ پیمائی تھی اپنے ہی بوجھ سے ہر ڈوبنے والا ڈوبا ورنہ طوفان سے کشتی تو نکل آئی تھی چل دیے بس یوں ہی اک سائے کے پیچھے نہ تعارف ہی تھا اس سے نہ شناسائی تھی کون اس دشت میں کہتا مجھے محسنؔ لبیک اپنی ہی خاک نوا گونج کے لوٹ آئی تھی
کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا
کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا کچھ تو اس کو برا لگا ہوگا آگے جا کر ٹھہر گیا ہوگا وہ مری راہ تک رہا ہوگا چھوڑ آئے تھے ہم جلا کے جسے وہ دیا کب کا بجھ گیا ہوگا جب وہ آواز تھم گئی ہوگی شب کا سناٹا بولتا ہوگا کیسے معلوم ہو کہ آخر وقت اس نے کیا کچھ کہا سنا ہوگا کیوں ہوا تیز ابھی سے چلنے لگی غنچہ کم کم ابھی کھلا ہوگا لہجہ اس کا بھی کچھ تھا اپنا سا وہ بھی اپنے دیار کا ہوگا پہلا سجدہ جہاں کیا تھا وہیں آخری سجدہ بھی ادا ہوگا ہو نہ ہو منزل آ گئی محسنؔ چند قوموں کا فاصلا ہوگا