محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا جب بنایا تو مٹایا کیوں تھا گئے وقتوں کا ہے اب رونا کیوں آئے وقتوں کو گنوایا کیوں تھا بیٹھ جانا تھا اگر مثل غبار سر پہ طوفان اٹھایا کیوں تھا میری منزل نہ کہیں تھی تو مجھے دشت در دشت پھرایا کیوں تھا وہ نہ ہمدم تھا نہ دم ساز کوئی حال دل اس کو سنایا کیوں تھا دور رہنا تھا جب اس کو محسنؔ میرے نزدیک وہ آیا کیوں تھا

— محسن زیدی