سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ میں ایک موج سراب جو سمندر وہ تمام ثابت و سیار اس کے حلقہ بگوش یہ کائنات ہے اک دائرہ تو محور وہ تمام مملکتیں اس کے ہی قلمرو میں سب اس کے زیر نگیں بحر و بر کا داور وہ سروں پہ اہل کرم کے ہے ابر رحمت کا ستم گروں کے لئے قہر کا ہے لشکر وہ کہیں ہے دن کی تپش میں شجر شجر سایہ کہیں ہے شب کے اندھیرے میں ماہ و اختر وہ کوئی مدد کو نہ آئے گا ایسی منزل ہے پناہ جاں کو ملے گی اگر ہے رہبر وہ پھر اس کی حمد و ثنا کس طرح لکھی جائے حدود لفظ و معانی سے جب ہے باہر وہ کتاب دین کی تکمیل ہو چکی محسنؔ زمیں پہ بھیج چکا آخری پیمبر وہ
میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو
میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو تنہائیوں میں آپ سے باتیں کیا کرو جتنا بھی دل ہو چاک سویرے سے شام تک تار ِنفس سے رات گۓ سی لیا کرو دیوار و در کے بیچ ہی گُھٹ گُھٹ کے رہ نہ جاؤ گھر سے نکل کے دشت میں گھوما پھرا کرو کیا جا کے پتھروں کو سناؤ گے اپنی بات جو بات بھی ہو خود سے ہی کہہ سن لیا کرو بے چہرگی کے دشت میں پہچان کیا بتاؤں جیسے ملے ہوا سے ہوا،آ ملا کرو یا پھینک دو اتار کے شیشے کا پیرہن یا پتھروں سے سوچ سمجھ کے ملا کرو محسنؔ کبھی جو لفظوں سے اڑنے لگیں شرار کچھ شعلہء خیال کو نم کر لیا کرو