محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا وہ مہرِنیم روز بھی پرچھائیوں میں تھا اوپر جمی ہوئی تھیں تہیں رسمیات کی پانی تعلقات کا گہرائیوں میں تھا یہ کس کے سوگ میں تھے کھلے سر چھتوں پہ لوگ ماتم یہ کس کی موت کا انگنائیوں میں تھا وہ سنگ باریوں سے بچاتا بھی کیا مجھے غیروں کیساتھ وہ بھی تماشائیوں میں تھا جتنی ہی تیز جھوٹ کے ہونٹ پہ تھی مٹھاس اتنا ہی تلخ زہر بھی سچائیوں میں تھا اس دشت میں تھا اندھا کنواں ہی مِرا نصیب کچھ فرق دشمنوں نہ سگے بھائیوں میں تھا وہ لاکھ ابھر کے بھی تو رہا دوسروں کا عکس میں ڈوب کر بھی اپنی ہی پرچھائیوں میں تھا پنہاں تھی غم کی لہر سی موجِ نشاط میں ہلکا سا سوزِ درد بھی شہنائیوں میں تھا پھر بھی نہ جانے ہو گیا دشمن زمانہ کیوں میں تو برائیوں میں نہ اچھائیوں میں تھا محسن وہ زہر پھیل گیا سطح پر بھی اب کل تک جو صرف ذہن کی گہرائیوں میں تھا

— محسن زیدی

میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھا

میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھا مآل کچھ بھی ہو حرفِ حق سدا لکھا وہ اک فریب تھا سجدہ جسے کہا اس نے وہ ایک عرضِ غرض تھی جسے دعا لکھا عجب ہے اسکی سیاست لکھا جبیں پہ کبھی کبھی مٹا کے وہی نام زیرِ پا لکھا پڑھا تو ایک ہی انداز سے پڑھا لیکن اسے لکھا تو سبھی نے جدا جدا لکھا دِلوں کے باب میں حرفِ جفا لکھا ہوتا وہ ایک حرفِ غلط تھا جسے وفا لکھا وہ حرف حرف تو محسن ہے میری ہی تحریر مٹاؤں کیسے خود اپنے ہی ہاتھ کا لکھا

— محسن زیدی