محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ

کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ ہاتھ لگتا ہی نہیں۔ ایسا کوئی راز ہے وہ ایک صورت ہے جو مٹتی ہے بنا کرتی ہے کبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ اس کو دنیا میں میری طرح ضرر کیوں پہنچے میں زمانے کا مخالف ہوں جہاں ساز ہے وہ لوگ اس کے ہی اشاروں پہ اڑے پھرتے ہیں بال و پر دیکھے کے ہیں قوتِ پرواز ہے وہ پتھروں پر بھی جو قدموں کے نشاں ثبت کرے صاحبِ کشف ہے وہ صاحبِ اعجاز ہے وہ سوچ کر اس سے ملو وہ میرا ہمزاد سہی سحر کر دیتا ہے ذہنوں پہ فزوں ساز ہے وہ اک کھنڈر جس سے کوئی اب تو گزرتا بھی نہیں اپنے ماضی کے حسیں دور کا غماز ہے وہ کیوں نہ محسنؔ اسے سینے سے لگائے رکھوں میرے ہی ٹوٹے ہوئے ساز کی آواز ہے وہ

— محسن زیدی

اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا

اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا رستے میں کچھ شجر تو ہیں سایہ نہیں تو کیا رہتا ہے کوئی شخص مرے دل کے آس پاس میں نے اسے قریب سے دیکھا نہیں تو کیا تو ہی بتا کہ چاہیں تجھے اور کس طرح یہ تیری جستجو یہ تمنا نہیں تو کیا ہم دور دور رہ کے بھی چلتے رہے ہیں ساتھ ہم نے قدم قدم سے ملایا نہیں تو کیا ریگ رواں کی طرح ہیں سارے تعلقات تم نے کسی کا ساتھ نبھایا نہیں تو کیا ویسے ہمیں تو پیاس میں دریا کی تھی تلاش اب یہ سراب ہی سہی دریا نہیں تو کیا سوچا بھی تم نے دشت چمن کیسے بن گیا محنت کا یہ عرق یہ پسینا نہیں تو کیا محسنؔ مری نگاہ کو اچھا لگا وہی دنیا کی وہ نظر میں جو اچھا نہیں تو کیا

— محسن زیدی

گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا

گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا میں رکھ کے ریڑھی پہ تازہ گلاب بیچوں گا رہی جو زندگی میری تو شہرِ ظلمت میں چراغ بیچوں گا اور بے حساب بیچوں گا مرا اجالوں کا بیوپار بس چمک جائے فلک پہ بیٹھ کے میں آفتاب بیچوں گا کشید کر کے قلندر کی مست آنکھوں سے شرابیوں کو میں " حق کی شراب" بیچوں گا خرید کر میں جہنم سے جسم لیلیٰ کا جناب قیس کو دلکش عذاب بیچوں گا سنائی دے گا جسے میری روح کا نغمہ میں ایسے شخص کو دل کا رباب بیچوں گا لگا کے آگ میں رکھ دوں گا " فکرِ نفرت" کو کباڑیوں کو میں اس کا نصاب بیچوں گا میں گردہ بیچ کے چھپواؤں گا اسے واصف پھر اک "واہ" کے بدلے کتاب بیچوں گا جبار واصف

— نا معلوم