محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا

ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا اب تک کا سفر ایک قیامت کا سفر تھا اندازۂ حالات تھا پہلے ہی سے مجھ کو درپیش جو اب ہے وہ مرے پیش نظر تھا سنتے ہیں کہ آباد یہاں تھا کوئی کنبہ آثار بھی کہتے ہیں یہاں پر کوئی گھر تھا طے ہم نے کیا سارا سفر یک و تنہا جز گرد سفر کوئی نہ ہم راہ سفر تھا صد حیف کئی لوگ گئے جاں سے مرے ساتھ قاتل کو تو مطلوب فقط میرا ہی سر تھا میری ہی طرح جاں سے گزر کر چلے آتے کچھ اس سے زیادہ تو نہ رستے میں خطر تھا رہتا تھا کبھی میری نگاہوں میں شب و روز اک وقت تھا جب وہ مرا محبوب نظر تھا کیا وہ کوئی جھونکا تھا نسیم سحری کا یا رہ گزر خواب پہ خوشبو کا سفر تھا ہم جا کے کہاں بادیہ پیما ہوئے محسنؔ جس دشت میں سبزہ نہ کہیں کوئی شجر تھا

— محسن زیدی

کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے

کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی رب کریم ہے تو تری رہ گزر میں ہے ماضی میں جو مزا مری شام و سحر میں تھا اب وہ فقط تصور شام و سحر میں ہے کیا جانے کس کو کس سے ہے اب داد کی طلب وہ غم جو میرے دل میں ہے تیری نظر میں ہے

— فیض احمد فیض