سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا
ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا اب تک کا سفر ایک قیامت کا سفر تھا اندازۂ حالات تھا پہلے ہی سے مجھ کو درپیش جو اب ہے وہ مرے پیش نظر تھا سنتے ہیں کہ آباد یہاں تھا کوئی کنبہ آثار بھی کہتے ہیں یہاں پر کوئی گھر تھا طے ہم نے کیا سارا سفر یک و تنہا جز گرد سفر کوئی نہ ہم راہ سفر تھا صد حیف کئی لوگ گئے جاں سے مرے ساتھ قاتل کو تو مطلوب فقط میرا ہی سر تھا میری ہی طرح جاں سے گزر کر چلے آتے کچھ اس سے زیادہ تو نہ رستے میں خطر تھا رہتا تھا کبھی میری نگاہوں میں شب و روز اک وقت تھا جب وہ مرا محبوب نظر تھا کیا وہ کوئی جھونکا تھا نسیم سحری کا یا رہ گزر خواب پہ خوشبو کا سفر تھا ہم جا کے کہاں بادیہ پیما ہوئے محسنؔ جس دشت میں سبزہ نہ کہیں کوئی شجر تھا
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی رب کریم ہے تو تری رہ گزر میں ہے ماضی میں جو مزا مری شام و سحر میں تھا اب وہ فقط تصور شام و سحر میں ہے کیا جانے کس کو کس سے ہے اب داد کی طلب وہ غم جو میرے دل میں ہے تیری نظر میں ہے