سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں
ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں یہ میں کہاں ہوں کیسی پریشانیوں میں ہوں اک پل کو بھی سکون سے جینا محال ہے کن دشمنان جاں کی نگہبانیوں میں ہوں یوں جل کے راکھ خواب کے پیکر ہوئے کہ بس اک آئینہ بنا ہوا حیرانیوں میں ہوں جب راہ سہل تھی تو بڑی مشکلوں میں تھا اب راہ ہے کٹھن تو کچھ آسانیوں میں ہوں آساں نہیں ہے اتنا کہ بک جاؤں اس کے ہاتھ ارزاں نہیں ہوں خواہ فراوانیوں میں ہوں مجھ کو بھی علم خوب ہے سب مد و جزر کا میں بھی تو سب کے ساتھ انہیں پانیوں میں ہوں محسنؔ تمام تر سر و ساماں کے باوجود پوچھو نہ کتنی بے سر و سامانیوں میں ہوں
یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا
یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا یہ بیاں جو ہے مرے نام سے یہ بیاں ہے اس کا لکھا ہوا وہی میلی میلی سی چاندنی وہی دھندلی دھندلی سی روشنی یہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا وہی ایک یاد کرن کرن مری زندگی میں ہے ضو فگن وہی ایک چہرہ چمن چمن سر دشت جاں ہے کھلا ہوا سر راہ کچھ نہ پتا چلا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا کہیں نقش پا تھا بنا ہوا کہیں نقش پا تھا مٹا ہوا کروں دوستوں کو میں نذر کیا مرے پاس دام و درم کہاں وہ جو دشمنوں کا حساب تھا وہ تو نقد جاں سے ادا ہوا نہ کسی کی یاد کا نقش ہے نہ کسی کے رخ کا یہ عکس ہے یہ نہ کوئی حرف نہ لفظ ہے سر خاک کیا ہے لکھا ہوا مجھے محسنؔ اس کا گلہ نہیں مجھے مال و زر جو ملا نہیں جو ہنر سخن کا مجھے ملا وہ کہاں سبھی کو عطا ہوا
صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں
صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں تمام عمر کی لادی تھکن اتارتے ہیں وہ میری ذات سے یوں منحرف ہوا جیسے کسی قمیض سے ، ٹوٹے بٹن اتارتے ہیں غزال شخص ! تم اِتراو ، حق بھی بنتا ہے تمہاری آنکھ کا صدقہ ہرن اتارتے ہیں ہر ایک سانس کٹ جاتی ہے سود بھرتے ہوئے یہ قرضِ زندگی سب مرد و زن اتارتے ہیں عطا ہر ایک پہ ہوتی نہیں کہ مالکِ کُن چنیدہ لوگوں پہ رزق سخن اتارتے ہیں جو عشق گھول کے دیتے ہیں میٹھے لہجوں میں رگوں میں زہر بھی وہ دفعتاً اتارتے ہیں گلے لگاؤ کہ تھک جانے والے لوگوں کو دلاسہ دیتے ہیں ، دل کی گھٹن اتارتے ہیں