سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا میں خود ہی چھوڑ کے کار جہاں روانہ ہوا میں اب چلا کہ مرا قافلہ روانہ ہوا کبھی پھر آؤں گا واپس جو آب و دانہ ہوا میں بالمشافہ نہیں جانتا کسی کو یہاں کہ مجھ سے میرا تعارف بھی غائبانہ ہوا ہوائے گل بھی نہ پیروں کی بن سکی زنجیر بہار میں بھی نہ اب کے کوئی دوانہ ہوا جو ریگ زیر قدم آئی بن گئی سبزہ غبار سر پہ جو آیا تو شامیانہ ہوا کسی کو نوک سناں بھی ضمیر کی نہ چبھی کسی کو ایک اشارہ ہی تازیانہ ہوا زمانہ کھنچ کے نہ کیوں اس کے پاس جائے گا وہ عالی جاہ ہوا صاحب خزانہ ہوا برس رہی ہے مری چشم نم تو برسوں سے تہی نہ ابر گہربار کا خزانہ ہوا نظر میں سب کا یہ منظر سمیٹ لو محسنؔ سحر قریب ہے اب ختم یہ فسانہ ہوا
منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا
منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا ہم سفر مجھ کو ملا کیسا سفر نا آشنا سارے ہی چہرے سبھی دیوار و در نا آشنا لگ رہا ہے مجھ کو سارا ہی نگر نا آشنا شمع اک نامحرم اسرار شب ہنگام شام اک ستارہ آخر شب اور سحر نا آشنا موج تیز و تند سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی اپنے برگ و بار سے شاخ شجر نا آشنا یہ تو دنیا ہے بدلتی رہتی ہے اس کی نظر جس قدر یہ آشنا ہے اس قدر نا آشنا اس نگاہ ناز کو اپنی طرف سمجھا کیے منکشف پھر یہ ہوا ہم تھے نظر نا آشنا کیا جھکے گا اب کسی کے در پہ محسنؔ اپنا سر زندگی بھر تو رہا سجدے سے سر نا آشنا
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا میں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفت فقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے میری آنکھوں میں آنسو ہیں، ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا میں اپنی رات کی زلفوں میں خود چاندی سجاتا ہوں میں اس کی مانگ میں وعدوں کے ہیرے جَڑ نہیں سکتا " بھلے جھوٹا منافق ہوں، بہت دھوکے دئیے، لیکن محبت کی صدا ہوں میں، میں دھوکا کر نہیں سکتا " میں اس گھر کا مقیمی ہوں، جسے اوقات کہتے ہیں میں اپنی حد میں رہتا ہوں، سو آگے بڑھ نہیں سکتا ابھی کچھ شعر رہتے ہیں، مگر لکھنے نہیں ہرگز کسی کی لاج رکھنی ہے، سو ظاہر کر نہیں سکتا. علی سرمد