سپیکرز
محمد اویس کا پیش کردہ کلام
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے چاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگے اور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے خوابوں کے درمیان ہے مدت سے ایک جنگ میدان کارزار نہ لشکر دکھائی دے یہ کیا کہ پھر بھی جسم ہے اپنا لہو لہان آتا ہوا کہیں سے نہ پتھر دکھائی دے ہر شام زندگی کا نیا خواب لے کے آئے ہر صبح اپنی موت کا منظر دکھائی دے اس طرح پڑھ رہے ہیں وہ تحریر ہاتھ کی ہاتھوں میں جیسے میرا مقدر دکھائی دے تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیے جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے
کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے کسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کو اٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے کہیں اک بوند بھی برسا نہ پانی کہیں بادل برستا جا رہا ہے دیے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں اندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے پہاڑ اوپر تو نیچے کھائیاں ہیں جہاں سے ہو کے رستہ جا رہا ہے وہ واپس لے رہا ہے قرض اپنا ہمارے پاس سے کیا جا رہا ہے