محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

محمد اویس کا پیش کردہ کلام

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے چاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگے اور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے خوابوں کے درمیان ہے مدت سے ایک جنگ میدان کارزار نہ لشکر دکھائی دے یہ کیا کہ پھر بھی جسم ہے اپنا لہو لہان آتا ہوا کہیں سے نہ پتھر دکھائی دے ہر شام زندگی کا نیا خواب لے کے آئے ہر صبح اپنی موت کا منظر دکھائی دے اس طرح پڑھ رہے ہیں وہ تحریر ہاتھ کی ہاتھوں میں جیسے میرا مقدر دکھائی دے تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیے جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے

— محسن زیدی

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے کسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کو اٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے کہیں اک بوند بھی برسا نہ پانی کہیں بادل برستا جا رہا ہے دیے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں اندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے پہاڑ اوپر تو نیچے کھائیاں ہیں جہاں سے ہو کے رستہ جا رہا ہے وہ واپس لے رہا ہے قرض اپنا ہمارے پاس سے کیا جا رہا ہے

— محسن زیدی