مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی

جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی بلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی ابھر آئی ہیں پھر چوٹیں جگر کی سلامت برچھیاں ترچھی نظر کی قیامت کی حقیقت جانتا ہوں یہ اک ٹھوکر ہے میرے فتنہ گر کی کیا مجبور آئین وفا نے نہ کرنی تھی وفا تم سے مگر کی نہ مانو گے نہ مانو گے ہماری ادھر ہو جائے گی دنیا ادھر کی ہوئی ان بن کسی سے مجھ پہ برسے بلائیں میرے سر دشمن کے سر کی نہ تیرے حسن بے پروا کی غایت نہ کوئی حد مرے ذوق نظر کی

— مبارک عظیم آبادی