مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش

تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش یہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموش محراب عبادت خم ابرو ہے بتوں کا کر بیٹھے ہیں کعبے کو مسلمان فراموش آباد رہے شاد رہے یاد تمہاری مجھ سے نہیں ہونے کی کسی آن فراموش کب بھولتے ہیں پاؤں مرے دشت نوردی کرتے ہیں کہاں ہاتھ گریبان فراموش

— مبارک عظیم آبادی