مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں

پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں ہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیں ہم بھی دیوانے ہیں وحشت میں نکل جائیں گے نجد اک دشت ہے کچھ قیس کی جاگیر نہیں اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائے اس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں

— مبارک عظیم آبادی