مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں

عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں کیسے کیسے لخت جگر ہیں کیا کیا دل کے پارے ہیں ایسے لعل کہاں دنیا میں جیسے لعل ہمارے ہیں اس کو مارا اس کو مارا یہ بسمل وہ ٹوٹ گیا نوک پلک والوں سے ڈریے قاتل ان کے اشارے ہیں چھلنی چھلنی دل بھی جگر بھی روزن روزن سینہ بھی ایک نگاہ ناز نے تیری تیر ہزاروں مارے ہیں پھونک رہا ہے سوز نہانی کون اس آگ پہ ڈالے پانی دل کی لگی نے آگ لگا دی داغ نہیں انگارے ہیں لالہ رخوں میں عمر گزاری دیکھی ان کی فصل بہار آج بھی گل سے گالوں والے مجھ کو مبارکؔ پیارے ہیں

— مبارک عظیم آبادی

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو نکلا چمک کے مہر قیامت بھی اور ہم بیٹھے رہے چھپائے دل داغ دار کو ساقی نہ مے نہ جام نہ مینا نہ میکدہ آمد بہار کی ہو مبارک بہار کو کیا کیا بگاڑ میں بھی ادائیں ہیں دل فریب کتنے بناؤ آتے ہیں گیسوئے یار کو ناصح کا امتحان مبارکؔ ہو ایک دن تھوڑی پلا کے دیکھیے اس ہوشیار کو

— مبارک عظیم آبادی