سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حسن سید
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے
تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے گرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے یہ کس کی نظر دے گئی روگ یارب سنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے تڑپ جائیے گا تڑپ جائیے گا تڑپنا ہمارا تماشا نہیں ہے بہت پھانس نکلی بہت خار نکلے مگر دل کا کانٹا نکلتا نہیں ہے یہ ہر شخص کی لن ترانی ہے کیسی کہ ہر آنکھ تو چشم موسیٰ نہیں ہے سلامت مری وحشت دل سلامت کہاں میری وحشت کا چرچا نہیں ہے مری جان بھی ہے عنایت تمہاری یہ دل بھی تمہارا ہے میرا نہیں ہے بلائی گئی ان کی محفل میں دنیا مگر ایک میرا بلاوا نہیں ہے ذرا آپ سمجھایئے دل کو ناصح میں سمجھا رہا ہوں سمجھتا نہیں ہے تمہیں دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیں بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے