مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے

تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے گرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے یہ کس کی نظر دے گئی روگ یارب سنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے تڑپ جائیے گا تڑپ جائیے گا تڑپنا ہمارا تماشا نہیں ہے بہت پھانس نکلی بہت خار نکلے مگر دل کا کانٹا نکلتا نہیں ہے یہ ہر شخص کی لن ترانی ہے کیسی کہ ہر آنکھ تو چشم موسیٰ نہیں ہے سلامت مری وحشت دل سلامت کہاں میری وحشت کا چرچا نہیں ہے مری جان بھی ہے عنایت تمہاری یہ دل بھی تمہارا ہے میرا نہیں ہے بلائی گئی ان کی محفل میں دنیا مگر ایک میرا بلاوا نہیں ہے ذرا آپ سمجھایئے دل کو ناصح میں سمجھا رہا ہوں سمجھتا نہیں ہے تمہیں دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیں بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

— مبارک عظیم آبادی