مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے

بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے اہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہے دیر و حرم کی راہ میں رکھتے نہیں قدم ہم رہروان شوق کا رستہ ہی اور ہے دل بے وفا کے ہاتھ نہ بیچے گا باوفا تم سے نہیں بنے گا یہ سودا ہی اور ہے اللہ دل نہ تم کو تڑپتا ہوا دکھائے دیکھا نہ جائے گا یہ تماشا ہی اور ہے جلوہ فروش آپ ہیں میں دل فروش ہوں ایسوں سے کیا بنے گا یہ سودا ہی اور ہے ٹکڑے ہیں دل جگر کے مبارکؔ کہ شعر ہیں غزلوں کا آپ کی تو سفینہ ہی اور ہے

— مبارک عظیم آبادی