مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے

پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے صاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے دورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھے بیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے کون پامال ہوا اس کی بلا دیکھتی ہے دیکھتا اپنی ہی جو شوخیٔ رفتار چلے بے پیے چلتا ہے یوں جھوم کے وہ مست شباب جس طرح پی کے کوئی رند قدح خوار چلے چشم و ابرو کی یہ سازش جگر و دل کو نوید ایک کا تیر چلے ایک کی تلوار چلے کچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیا جو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے جس کو رہنا ہو رہے قیدئ زنداں ہو کر ہم تو اے ہم نفسو پھاند کے دیوار چلے پھر مبارکؔ وہی گھنگھور گھٹائیں آئیں جانب مے کدہ پھر رند قدح خوار چلے

— مبارک عظیم آبادی