سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حسن سید
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے
پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے صاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے دورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھے بیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے کون پامال ہوا اس کی بلا دیکھتی ہے دیکھتا اپنی ہی جو شوخیٔ رفتار چلے بے پیے چلتا ہے یوں جھوم کے وہ مست شباب جس طرح پی کے کوئی رند قدح خوار چلے چشم و ابرو کی یہ سازش جگر و دل کو نوید ایک کا تیر چلے ایک کی تلوار چلے کچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیا جو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے جس کو رہنا ہو رہے قیدئ زنداں ہو کر ہم تو اے ہم نفسو پھاند کے دیوار چلے پھر مبارکؔ وہی گھنگھور گھٹائیں آئیں جانب مے کدہ پھر رند قدح خوار چلے