سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی
تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی یہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھے تمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی تمہیں کہو تمہیں ناآشنا کہیں نہ کہیں کہ آشنا سے ادا رسم آشنا نہ ہوئی تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی ہمیں کو دیکھ کے خنجر نکالتے تھے آپ ہمارے بعد تو یہ رسم پھر ادا نہ ہوئی خدا نے رکھ لیا ناز و نیاز کا پردہ کہ روز حشر مری ان کی برملا نہ ہوئی
ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گی
ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گی پاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گی توبہ کی رندوں میں گنجائش کہاں جب یہ آئے گی نکالی جائے گی کچھ بلانوش آ گئے بھٹی میں شیخ تیری بوتل آج خالی جائے گی پھول کیا ڈالو گے تربت پر مری خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی جائیے ہم اپنا بہلا لیں گے دل دل لگی کوئی نکالی جائے گی آئے بھی تو وہ مبارکؔ آئے کیا جانے کی تمہید ڈالی جائے گی