مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی

تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی یہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھے تمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی تمہیں کہو تمہیں ناآشنا کہیں نہ کہیں کہ آشنا سے ادا رسم آشنا نہ ہوئی تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی ہمیں کو دیکھ کے خنجر نکالتے تھے آپ ہمارے بعد تو یہ رسم پھر ادا نہ ہوئی خدا نے رکھ لیا ناز و نیاز کا پردہ کہ روز حشر مری ان کی برملا نہ ہوئی

— مبارک عظیم آبادی

ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گی

ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گی پاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گی توبہ کی رندوں میں گنجائش کہاں جب یہ آئے گی نکالی جائے گی کچھ بلانوش آ گئے بھٹی میں شیخ تیری بوتل آج خالی جائے گی پھول کیا ڈالو گے تربت پر مری خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی جائیے ہم اپنا بہلا لیں گے دل دل لگی کوئی نکالی جائے گی آئے بھی تو وہ مبارکؔ آئے کیا جانے کی تمہید ڈالی جائے گی

— مبارک عظیم آبادی