سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حسن سید
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا جو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا یہ آج بھی قصور ہے، کل بھی قصور تھا برقع اٹھا جو رُخ سے، حیا بن گئی نقاب ہلکا سہی وصال میں پردہ ضرور تھا ساقی نے مے تو سب کو پلائی تھی ایک سی لیکن بقدر ظرف ہر اک کا سرور تھا لازم تھی بے خودی ترے دیدار کے لیے پردہ جو بیچ میں تھا، وہ میرا شعور تھا بجھنے کی جو نہیں، وہ مرے دل کی آگ ہے دم بھر میں جو جلا بھی، بجھا بھی، وہ طور تھا ناصح نہ پوچھ حسن کے پتلوں کی دل کشی ان پر تو دل کا ٹوٹ کے آنا ضرور تھا آرائشیں نہیں تھیں، آپ تھے وعدے کی رات تھی میں تھا، تسلیاں تھیں، دل ناصبور تھا خاموش کاٹنی تھی، مبارک شب فراق یہ کس نے تم سے کہہ دیا نالہ ضرور تھا