مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی

پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی اور الجھا دل گرفتاری بڑھی مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی ہجر کی گھڑیاں کٹھن ہوتی گئیں دن کے نالے رات کی زاری بڑھی پھر تصور میں کسی کے نیند اڑی پھر وہی راتوں کی بے داری بڑھی سختیاں راہ محبت کی نہ پوچھ ہر قدم اک تازہ دشواری بڑھی خیر ساقی کی سلامت مے کدہ جس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی دور دورے ہیں مبارکؔ جام کے انتہا کی اپنی مے خواری بڑھی

— مبارک عظیم آبادی