مبارک عظیم آبادی

دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی

29 April 2026

16سپیکرز
169لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے

آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے فصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہے شیخ بھی مضطرب الحال پہنچ جاتا ہے جانب مے کدہ جب ابر بہار اٹھتا ہے مرحبا بار امانت کے اٹھانے والے کیا کلیجہ ہے تمہارا کہ یہ بار اٹھتا ہے خار صحرائے محبت کی کھٹک کیا کہیے جب قدم اٹھتا ہے اپنا سر خار اٹھتا ہے دود آہ دل سوزاں ہے مبارکؔ اپنا جو دھواں شمع سے بالین مزار اٹھتا ہے

— مبارک عظیم آبادی