کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن ان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے

— کیفی اعظمی

لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے

لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے یہ کچھ سمٹی سمٹی سی ہونٹوں کی لالی یہ کچھ بہکی بہکی سی سفاک نظریں یہ کچھ سہمی سہمی سی فرخندہ حالی یہ کچھ الجھے الجھے پریشاں تخیل یہ کچھ بھٹکی بھٹکی سی روشن خیالی یہ کچھ روٹھے روٹھے سے جذبات الفت نہ شوخی نہ عشوئے، نہ شیریں مقالی مرے حسب وعدہ نہ آنے سے شائد ہوئی حسرت و شوق کی پائمالی نہ کر اب خدا را زیادہ پشیماں کہ آخر ہوں اک شاعر لاابالی

— کیفی اعظمی