سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن ان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے
لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے یہ کچھ سمٹی سمٹی سی ہونٹوں کی لالی یہ کچھ بہکی بہکی سی سفاک نظریں یہ کچھ سہمی سہمی سی فرخندہ حالی یہ کچھ الجھے الجھے پریشاں تخیل یہ کچھ بھٹکی بھٹکی سی روشن خیالی یہ کچھ روٹھے روٹھے سے جذبات الفت نہ شوخی نہ عشوئے، نہ شیریں مقالی مرے حسب وعدہ نہ آنے سے شائد ہوئی حسرت و شوق کی پائمالی نہ کر اب خدا را زیادہ پشیماں کہ آخر ہوں اک شاعر لاابالی