کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا نئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا نئی زمین نیا آسماں بھی مل جائے نئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا وہ تیغ مل گئی جس سے ہوا ہے قتل مرا کسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولھے کہ جن میں شعلے تو شعلے دھواں نہیں ملتا جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں یہاں تو کوئی مرا ہم زباں نہیں ملتا کھڑا ہوں کب سے میں چہروں کے ایک جنگل میں تمہارے چہرے کا کچھ بھی یہاں نہیں ملتا

— کیفی اعظمی

پشیمانی

میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھا کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو مگر اس نے روکا نہ مجھ کو منایا نہ دامن ہی پکڑا نہ مجھ کو بٹھایا نہ آواز ہی دی نہ مجھ کو بلایا میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا یہاں تک کہ اس سے جدا ہو گیا میں

— کیفی اعظمی

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں میں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

— کیفی اعظمی

حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش

حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش وقت کو پھر ہے کروڑوں میں بہتر کی تلاش زندگی کو پھر ہے اک جانباز رہبر کی تلاش پھر جوانی کھونے کو ہے وہ نشان حریت پھر ہوئی ہے دوش عباس دلاور کی تلاش پھر حمیت اٹھی ہے پھر ہے عزت گرم کار پھر ہوئی ہے زندگی کو جوش اکبر کی تلاش دیکھنا کیفی نشاں حریت لہرائے گا جب جہاں کو عزم شیر کربلا مل جائے گا

— کیفی اعظمی

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

— کیفی اعظمی