سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا نئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا نئی زمین نیا آسماں بھی مل جائے نئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا وہ تیغ مل گئی جس سے ہوا ہے قتل مرا کسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولھے کہ جن میں شعلے تو شعلے دھواں نہیں ملتا جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں یہاں تو کوئی مرا ہم زباں نہیں ملتا کھڑا ہوں کب سے میں چہروں کے ایک جنگل میں تمہارے چہرے کا کچھ بھی یہاں نہیں ملتا
پشیمانی
میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھا کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو مگر اس نے روکا نہ مجھ کو منایا نہ دامن ہی پکڑا نہ مجھ کو بٹھایا نہ آواز ہی دی نہ مجھ کو بلایا میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا یہاں تک کہ اس سے جدا ہو گیا میں
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں میں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے
حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش
حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش وقت کو پھر ہے کروڑوں میں بہتر کی تلاش زندگی کو پھر ہے اک جانباز رہبر کی تلاش پھر جوانی کھونے کو ہے وہ نشان حریت پھر ہوئی ہے دوش عباس دلاور کی تلاش پھر حمیت اٹھی ہے پھر ہے عزت گرم کار پھر ہوئی ہے زندگی کو جوش اکبر کی تلاش دیکھنا کیفی نشاں حریت لہرائے گا جب جہاں کو عزم شیر کربلا مل جائے گا
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا