کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

بہارو میرا جیون بھی سنوارو

بہارو میرا جیون بھی سنوارو کوئی آئے کہیں سے یوں پکارو تمہیں سے دل نے سیکھا ہے تڑپنا تمہیں کو دوش دوں گی اے نظارو سجاؤ کوئی کجرا لاؤ گجرا لچکتی ڈالیو تم پھول وارو رچاؤ میرے ان ہاتھوں میں مہندی سجاؤ مانگ میری یا سدھارو نہ جانے کس کا سایہ دل سے گزرا ذرا آواز دینا رازدارو

— کیفی اعظمی

مکان

مکان آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی سب اٹھو،میں بھی اٹھوں،تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھی پاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نے ان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبر ان دنوں کی جو گھپاؤں میں گزارے ہم نے ہاتھ ڈھلتے گئے سانچے میں تو تھکتے کیسے نقش کے بعد نئے نقش نکھارے ہم نے کی یہ دیوار بلند ، اور بلند ، اور بلند بام و در اور ، ذرا اور سنوارے ہم نے آندھیاں توڑ لیا کرتی تھیں شمعوں کی لویں جڑ دئیے اس لئے بجلی کے ستارے ہم نے بن گیا قصر تو پہرے پہ کوئی بیٹھ گیا سو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لئے اپنی نس نس میں لئے محنت پیہم کی تھکن بند آنکھوں میں اسی قصر کی تصویر لئے دن پگھلتا ہے اسی طرح سروں پر اب تک رات آنکھوں میں کھٹکتی ہے سیہ تیر لئے آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی سب اٹھو،میں بھی اٹھوں،تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

— کیفی اعظمی