کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار کچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

— کیفی اعظمی

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں پھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاں آج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسانہ تیرے شہر میں کچھ کنیزیں جو حریم ناز میں ہیں باریاب مانگتی ہیں جان و دل نذرانہ تیرے شہر میں ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرانہ تیرے شہر میں

— کیفی اعظمی