سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
مرزا جواد
ملک
مہیمن
نایاب
یادرفتگان
مہیمن کا پیش کردہ کلام
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا بیٹھو نہ دور ہم سے، دیکھو خفا نہ ہو قسمت سے مل گئے ہو، مل کے جدا نہ ہو میری کیا خطا ہے ہوتا ہے یہ بھی کہ زمیں سے بھی کبھی آسماں مل گیا کہ جہاں مل گیا تم کیا جانو تم کیا ہو، ایک سریلا نغمہ ہو بھیگی راتوں میں مستی، تپتے دن میں سایہ ہو اب جو آ گئے ہو، جانے نہ دوں گا کہ مجھے ایک حسیں مہرباں مل گیا کہ جہاں مل گیا تم بھی تھے کھوئے کھوئے، میں بھی بجھا بجھا تھا اجنبی زمانہ، اپنا کوئی نہ تھا دل کو جو مل گیا ہے تیرا سہارا اک نئی زندگی کا نشان مل گیا کہ جہاں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا