کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

مہیمن کا پیش کردہ کلام

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا بیٹھو نہ دور ہم سے، دیکھو خفا نہ ہو قسمت سے مل گئے ہو، مل کے جدا نہ ہو میری کیا خطا ہے ہوتا ہے یہ بھی کہ زمیں سے بھی کبھی آسماں مل گیا کہ جہاں مل گیا تم کیا جانو تم کیا ہو، ایک سریلا نغمہ ہو بھیگی راتوں میں مستی، تپتے دن میں سایہ ہو اب جو آ گئے ہو، جانے نہ دوں گا کہ مجھے ایک حسیں مہرباں مل گیا کہ جہاں مل گیا تم بھی تھے کھوئے کھوئے، میں بھی بجھا بجھا تھا اجنبی زمانہ، اپنا کوئی نہ تھا دل کو جو مل گیا ہے تیرا سہارا اک نئی زندگی کا نشان مل گیا کہ جہاں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا

— کیفی اعظمی