کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

— کیفی اعظمی

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے رات پلکیں آنکھوں پہ جھکتی آتی ہیں انکھڑیوں میں کھٹک رہی ہے رات آج چھیڑو نہ کوئی افسانہ آج کی رات ہم کو سونے دو کھلتے جاتے ہیں سمٹے سکڑے جال گھلتے جاتے ہیں خون میں بادل اپنے گلنار پنکھ پھیلائے آ رہے ہیں اسی طرف جنگل گل کرو شمع، رکھ دو پیمانہ آج کی رات ہم کو سونے دو شام سے پہلے مر چکا تھا شہر کون دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اونچی کرو یہ دیواریں شور آنگن میں آیا جاتا ہے کہہ دو ہے آج بند مے خانہ آج کی رات ہم کو سونے دو جسم ہی جسم ہیں، کفن ہی کفن بات سنتے نہ سر جھکاتے ہیں امن کی خیر، کوتوال کی خیر مردے قبروں سے نکلے آتے ہیں کوئی اپنا نہ کوئی بیگانہ آج کی رات ہم کو سونے دو کوئی کہتا تھا، ٹھیک کہتا تھا سرکشی بن گئی ہے سب کا شعار قتل پر جن کو اعتراض نہ تھا دفن ہونے کو کیوں نہیں تیار ہوشمندی ہے آج سو جانا آج کی رات ہم کو سونے دو

— کیفی اعظمی