کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

سومنات

بت شکن کوئی کہیں سے بھی نہ آنے پائے ہم نے کچھ بت ابھی سینے میں سجا رکھے ہیں اپنی یادوں میں بسا رکھے ہیں دل پہ یہ سوچ کے پتھراؤ کرو دیوانو کہ جہاں ہم نے صنم اپنے چھپا رکّھے ہیں وہیں غزنی کے خدا رکّھے ہیں بت جو ٹوٹے تو کسی طرح بنا لیں گے انہیں ٹکڑے ٹکڑے سہی دامن میں اٹھا لیں گے انہیں پھر سے اجڑے ہوئے سینے میں سجا لیں گے انہیں گر خدا ٹوٹے گا ہم تو نہ بنا پائیں گے اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑے نہ اٹھا پائیں گے تم اٹھا لو تو اٹھا لو شاید تم بنا لو تو بنا لو شاید تم بناؤ تو خدا جانے بناؤ کیسا اپنے جیسا ہی بنایا تو قیامت ہوگی پیار ہوگا نہ زمانے میں محبت ہوگی دشمنی ہوگی عداوت ہوگی ہم سے اسکی نہ عبادت ہو گی وحشتِ بت شکنی دیکھ کے حیران ہوں میں بت پرستی میرا شیوہ ہے کہ انسان ہوں میں اک نہ اک بت تو ہر اک دل میں چھپا ہوتا ہے اس کے سو ناموں میں اک نام خدا ہوتا ہے

— کیفی اعظمی

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے سب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والو ہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے مرے جنون پرستش سے تنگ آ گئے لوگ سنا ہے بند کیے جا رہے ہیں بت خانے جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھا وہیں پہ توڑے ہیں یاروں نے آج پیمانے بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے ہوا ہے حکم کہ کیفیؔ کو سنگسار کرو مسیح بیٹھے ہیں چھپ کے کہاں خدا جانے

— کیفی اعظمی