کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے وہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہے کہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے شب انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھی یہ چراغ بجھ رہے ہیں مرے ساتھ جلتے جلتے

— کیفی اعظمی