کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے کہیں یہ وہ تو نہیں ؟ چُھپ کے سینے میں کوئی جیسے صدا دیتا ہے شام سے پہلے دیا دل کا جلا دیتا ہے ہے اسی کی یہ صدا ہے اسی کی یہ ادا کہیں یہ وہ تو نہیں ؟ شکل پھرتی ہے نگاہوں میں وہی پیاری سی میری نس نس میں مچلنے لگی چنگاری سی چُھو گئی جسم مرا کس کے دامن کی ہوا کہیں یہ وہ تو نہیں ؟

— کیفی اعظمی